کبھی جب تھک کے بیٹھوں میں
کسی فرصت کے لمحوں میں
تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
تو اس کو یاد کرتی ہوں
بہت فریاد کرتی ہوں
رو رو کے استغفار کرتی ہوں
بہت کرتی ہوں میں وعدے
کئ باندھتی ہوں ارادے
مگر جب صبح ہوتی ہے
صبح سے شام ہوتی ہے
بن جاتی ہوں گھن چکر
تھک جاتی ہوں دوڑ دوڑ کر
ادھر جانا، ادھر جانا
یہ لینا ہے وہ لینا ہے
میں وعدے توڑ دیتی ہوں
ارادے چھوڑ دیتی ہوں
نہ کوئ تسبیح نہ ہی عبادت
نہ ہی کسی نماز کا پھر ہوش ہوتا ہے
میں رب کو بھول جاتی ہوں
سب وعدے،ارادے بھول جاتی ہوں
مگر وہ مجھ کو نہیں بھولا
وہ جھولی بھر کے دیتا ہے
بن مانگے بھی دیتا ہے
وہ ہے بے نیاز ایسا
نہیں کوئ ہے اس جیسا
پھر تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
بس اک آنسو ندامت کا
میری جھولی میں گرتا ہے
تو مجھ کو معاف کرتا ہے
ہر روز ہی معاف کرتا ہے
وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
بہت ہی پیار کرتا ہے