Thursday, November 19, 2020
Monday, October 12, 2020
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر، آہستہ
...
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر، آہستہ، آہستہ
ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر، آہستہ، آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو، چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر، آہستہ، آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو، چلمنوں کے راز تو سمجھو
اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در، آہستہ، آہستہ
زمانے بھر کی کیفیّت سمٹ آئے گی ساغر میں
پیو ان انکھڑیوں کے نام پر، آہستہ، آہستہ
یونہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا
خطاب، آہستہ، آہستہ، نظر، آہستہ، آہستہ
کلام: مصطفیٰ زیدی
Thursday, April 2, 2020
اچھا نہیں لگتا
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا
بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا
مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا
بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتی
یہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا
یہ کیوں باقی رہے آتش زنو یہ بھی جلا ڈالو
کہ سب بے گھر ہوں اور میرا ہو گھر اچھا نہیں لگتا
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا
بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا
مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا
بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتی
یہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا
یہ کیوں باقی رہے آتش زنو یہ بھی جلا ڈالو
کہ سب بے گھر ہوں اور میرا ہو گھر اچھا نہیں لگتا
Subscribe to:
Posts (Atom)
