Friday, July 5, 2019

💙💚💛💜

بہت خوبصورت ہو تم
کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے
تو مجھ کو خُدارا غلط مت سمجھنا
کہ میری ضرورت ہو تم,
بہت خوبصورت ہو تم,

ہے پھولوں کی ڈالی یہ باہیں تمہاری
ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری
جو کانٹیں ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں
سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری
نظر سے زمانے کی خود کو بچانا
کسی اور سے دیکھو دل نہ لگانا
Zکہ میری امانت ہو تم
بہت خوبصورت ہو تم,

ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا
اور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرا
گلابوں سے نازک مہکتا بدن ہے
یہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہے
بکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادل
یہ زاہد بھی دیکھے تو ہو جائے پاگل
وہ پاکیزہ مورت ہو تم
بہت خوبصورت ہو تم,

جو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثر
شبِ ہجر میں جو رُلاتی ہے اکثر
جو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دے
جو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کے
چھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائے
بھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جائے
وہ پہلی محبت ہو تم
بہت خوبصورت ہو ت

💙💚💛💜❤

کچھ تو ہوا بھی سرد تھ


کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی 
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی 
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی 
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی 
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا 
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی 
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں 
شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی 
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا 
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی 
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر 
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی 
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں 
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی 
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب 
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی 
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے 
جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی 
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا 
موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی

پروین شاکر۔۔۔!!

Tuesday, July 2, 2019

چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری - محسن بھوپالی

❤❤❤❤

چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری

میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری

روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی، ہے مٹی کی مجبوری

ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہربلب
جبرِ وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری

جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے، سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری

مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسن
ہم نے ساری عمر نبھائی اپنی پہلی مجبوری

❤❤❤❤❤