حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔۔
۔مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں ۔۔
چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
!ھر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاوں کدھر کو میں
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں
چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رو کے ساتھ
!پیچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
!کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
غالب خدا کرے کیہ سوار سمند ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں۔
💚💚💚