Hamari_shairi
Wednesday, February 20, 2019
آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی
Newer Posts
Older Posts
Home
Subscribe to:
Posts (Atom)