Saturday, June 8, 2019


پھر روگوں میں چھوڑ گئے ہو
کن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو

ہنستے ہنستے جانے والے
کیوں سوگوں میں چھوڑ گئے ہو؟

ہم کو دردوں اور دُکھوں کے
سنجوگوں میں چھوڑ گئے ہو

یہ زخموں پر ہنس دیتے ہیں
اِن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو ؟

دیکھو مجھ کو روند رہے ہیں
جن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو


زین شکیل ۔۔!!

Friday, March 1, 2019

Wednesday, February 20, 2019


آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ

لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی

Friday, January 25, 2019

غزل "مرزا اسداللہ غالب"

حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔۔
۔مقدور ہو تو ساتھ  رکھوں نوحہ گر کو میں ۔۔

چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
!ھر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاوں کدھر کو میں

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں

چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رو کے ساتھ
!پیچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں 

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
!کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں

غالب خدا کرے کیہ سوار سمند ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر  کو میں۔
💚💚💚


جنہوں کے عشق صاسق ہوں۔وہ کب فریاد کرتے ہیں۔۔
لبوں پہ مہر خاموشی۔دلوں پہ راج کرتے ہیں۔۔
💚💙💚

Wednesday, September 26, 2018

ﻣﯿﺮﮮ ﺟﮓ ﺗﻮ ﻭﮐﮭﺮﮮ ﺭﻭﮒ

ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﮨﺴﺎﻭﺍﮞ ﻟﻮﮐﺎﮞ ﻧﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﻭﭨﺎﻭﺍﮞ ﺟﻮﮒ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﮓ ﺍﻧﮓ ﭼﯿﮑﺎﮞ ﻣﺎﺭﺩﺍ
ﻣﯿﻨﻮ ﺍﻧﺪﺭﻭﮞ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﮯ ﺳﻮﮒ
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺟﻤﺎﻋﺘﺎﮞ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﯿﺎﮞ
ﻣﯿﻨﻮ ﻃﻌﻨﮯ ﻣﺎﺭﻥ ﻟﻮﮒ
ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻦ ﻣﻦ ﺭﻭﮔﯽ ﯾﺎﺭ ﺩﺍ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﮓ ﺗﻮ ﻭﮐﮭﺮﮮ ﺭﻭﮒ

Wednesday, August 29, 2018

کبھی جب تھک کے بیٹھوں میں
کسی فرصت کے لمحوں میں
تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
تو اس کو یاد کرتی ہوں
بہت فریاد کرتی ہوں
رو رو کے استغفار کرتی ہوں
بہت کرتی ہوں میں وعدے
کئ باندھتی ہوں ارادے
مگر جب صبح ہوتی ہے
صبح سے شام ہوتی ہے
بن جاتی ہوں گھن چکر
تھک جاتی ہوں دوڑ دوڑ کر
ادھر جانا، ادھر جانا
یہ لینا ہے وہ لینا ہے
میں وعدے توڑ دیتی ہوں
ارادے چھوڑ دیتی ہوں
نہ کوئ تسبیح نہ ہی عبادت
نہ ہی کسی نماز کا پھر ہوش ہوتا ہے
میں رب کو بھول جاتی ہوں
سب وعدے،ارادے بھول جاتی ہوں

مگر وہ مجھ کو نہیں بھولا
وہ جھولی بھر کے دیتا ہے
بن مانگے بھی دیتا ہے
وہ ہے بے نیاز ایسا
نہیں کوئ ہے اس جیسا
پھر تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
بس اک آنسو ندامت کا
میری جھولی میں گرتا ہے
تو مجھ کو معاف کرتا ہے
ہر روز ہی معاف کرتا ہے
وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
بہت ہی پیار کرتا ہے