Friday, March 1, 2019
Wednesday, February 20, 2019
Friday, January 25, 2019
غزل "مرزا اسداللہ غالب"
حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔۔
۔مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں ۔۔
چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
!ھر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاوں کدھر کو میں
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں
چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رو کے ساتھ
!پیچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
!کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
غالب خدا کرے کیہ سوار سمند ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں۔
💚💚💚
Wednesday, September 26, 2018
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﮓ ﺗﻮ ﻭﮐﮭﺮﮮ ﺭﻭﮒ
ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﮨﺴﺎﻭﺍﮞ ﻟﻮﮐﺎﮞ ﻧﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﻭﭨﺎﻭﺍﮞ ﺟﻮﮒ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﮓ ﺍﻧﮓ ﭼﯿﮑﺎﮞ ﻣﺎﺭﺩﺍ
ﻣﯿﻨﻮ ﺍﻧﺪﺭﻭﮞ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﮯ ﺳﻮﮒ
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺟﻤﺎﻋﺘﺎﮞ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﯿﺎﮞ
ﻣﯿﻨﻮ ﻃﻌﻨﮯ ﻣﺎﺭﻥ ﻟﻮﮒ
ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻦ ﻣﻦ ﺭﻭﮔﯽ ﯾﺎﺭ ﺩﺍ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﮓ ﺗﻮ ﻭﮐﮭﺮﮮ ﺭﻭﮒ
Wednesday, August 29, 2018
کبھی جب تھک کے بیٹھوں میں
کسی فرصت کے لمحوں میں
تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
تو اس کو یاد کرتی ہوں
بہت فریاد کرتی ہوں
رو رو کے استغفار کرتی ہوں
بہت کرتی ہوں میں وعدے
کئ باندھتی ہوں ارادے
مگر جب صبح ہوتی ہے
صبح سے شام ہوتی ہے
بن جاتی ہوں گھن چکر
تھک جاتی ہوں دوڑ دوڑ کر
ادھر جانا، ادھر جانا
یہ لینا ہے وہ لینا ہے
میں وعدے توڑ دیتی ہوں
ارادے چھوڑ دیتی ہوں
نہ کوئ تسبیح نہ ہی عبادت
نہ ہی کسی نماز کا پھر ہوش ہوتا ہے
میں رب کو بھول جاتی ہوں
سب وعدے،ارادے بھول جاتی ہوں
مگر وہ مجھ کو نہیں بھولا
وہ جھولی بھر کے دیتا ہے
بن مانگے بھی دیتا ہے
وہ ہے بے نیاز ایسا
نہیں کوئ ہے اس جیسا
پھر تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
بس اک آنسو ندامت کا
میری جھولی میں گرتا ہے
تو مجھ کو معاف کرتا ہے
ہر روز ہی معاف کرتا ہے
وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
بہت ہی پیار کرتا ہے
کسی فرصت کے لمحوں میں
تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
تو اس کو یاد کرتی ہوں
بہت فریاد کرتی ہوں
رو رو کے استغفار کرتی ہوں
بہت کرتی ہوں میں وعدے
کئ باندھتی ہوں ارادے
مگر جب صبح ہوتی ہے
صبح سے شام ہوتی ہے
بن جاتی ہوں گھن چکر
تھک جاتی ہوں دوڑ دوڑ کر
ادھر جانا، ادھر جانا
یہ لینا ہے وہ لینا ہے
میں وعدے توڑ دیتی ہوں
ارادے چھوڑ دیتی ہوں
نہ کوئ تسبیح نہ ہی عبادت
نہ ہی کسی نماز کا پھر ہوش ہوتا ہے
میں رب کو بھول جاتی ہوں
سب وعدے،ارادے بھول جاتی ہوں
مگر وہ مجھ کو نہیں بھولا
وہ جھولی بھر کے دیتا ہے
بن مانگے بھی دیتا ہے
وہ ہے بے نیاز ایسا
نہیں کوئ ہے اس جیسا
پھر تنہائ میں، گہری خامشی میں
یا رات کی تاریکی میں
بس اک آنسو ندامت کا
میری جھولی میں گرتا ہے
تو مجھ کو معاف کرتا ہے
ہر روز ہی معاف کرتا ہے
وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
بہت ہی پیار کرتا ہے
Saturday, July 28, 2018
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو اور زندگی وبال نہ ہو
Subscribe to:
Posts (Atom)
