Friday, June 28, 2019

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیاں بجھ گیا! آوارگی


❤❤❤

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیاں بجھ گیا! آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آوارگی

کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا! تُو کون ہے؟ اُس نے کہا! آوارگی

اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگی

یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے، اپنی سُنا! آوارگی

کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی

کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا! تُو کون ہے؟ اُس نے کہا! آوارگی

اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگی

یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے، اپنی سُنا! آوارگی

کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی

❤❤❤

Thursday, June 27, 2019

وہ پہلی محبّت ہو تم

. بہت خوبصورت ہو تم)

بہت خوبصورت ہو تم
کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے
تو مجھ کو خُدارا غلط مت سمجھنا
کہ میری ضرورت ہو تم,
بہت خوبصورت ہو تم,

ہے پھولوں کی ڈالی یہ باہیں تمہاری
ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری
جو کانٹیں ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں
سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری
نظر سے زمانے کی خود کو بچانا
کسی اور سے دیکھو دل نہ لگانا
کہ میری امانت ہو تم
بہت خوبصورت ہو تم,

ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا
اور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرا
گلابوں سے نازک مہکتا بدن ہے
یہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہے
بکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادل
یہ زاہد بھی دیکھے تو ہو جائے پاگل
وہ پاکیزہ مورت ہو تم
بہت خوبصورت ہو تم,

جو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثر
شبِ ہجر میں جو رُلاتی ہے اکثر
جو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دے
جو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کے
چھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائے
بھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جو
وہ پہلی محبّت ہو تم

_ طاہر فراز

Monday, June 24, 2019

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
مضطر خیرآبادی
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں 
کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں 

نہ دوائے درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں 
نہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں 

مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا 
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں 

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں 
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں 

نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں 
جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں 

میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا 
میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں 

نہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوں 
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

Friday, June 21, 2019

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے، تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دل میں اتار لیا، پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

❤❤❤

Tuesday, June 18, 2019

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں



ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں 



ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں 
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو 
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو 
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں 
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو 
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو 
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں 
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو 
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو 
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو 
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو 
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔ 

مُنیر نیازی ۔۔۔!!!

Sunday, June 16, 2019

یہ مشغلہ ہے کسی کا ،نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹاۓ، نہ فیصلہ چاہے

میری بساط ہے کیا میں ہوں برگِ آوارہ
اُڑا کے لے چلے مجھ کو ،جدھر ہوا چاہے

جو اصل چہرہ دکھاتا ہے ترجماں بن کر
اُس آئینے کی طرف کون دیکھنا چاہے

ہزاروں ڈوبنے والے بچا لیے لیکن
اُسے میں کیسے بچاؤں جو ڈوبنا چاہے

نہ جانے خونِ تمنا کیا ہے کس کس نے
مگر وہ شخص فقط مجھ سے خوں بہا چاہے

بھلانا چاہوں جو اس کو بھلا نہیں سکتا
یہ اور بات ہے کہ وہ مجھ کو بھولنا چاہے 

نا جانے کیا میرے صیّاد کا ارادہ ہے 
جلا چکا ہے نشیمن اب اور کیا  چاہے 

زاہد آفاق۔۔۔!!

Friday, June 14, 2019

چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اُتارا کیجے
مشورہ ہے یہ میری جان! گوارا کیجے

ہم تُمہیں ایک نَظَر بھی نہیں اچھّے لگتے
ارے کیجئے جان یہی بات دوبارا کیجے

روشنی دِن کی اندھیروں میں سِمَٹ جاتی ہے
گھر کے آنگن میں نہ یُوں بال سنوارا کیجے

ہم تو یہ جان ہتھیلی پہ لئے پِھرتے ہیں
بَس کِسی دِن ہمیں ہلکا سا اِشارا کیجے

آپ تو مَحل نشِیں نرم مُلائم سے ہیں
جھونپڑی ہے یہ غریبوں کی گُزارا کیجے 

ہم تو راہوں میں لیے پھرتے ہیں کاسہِ دِل
حال کیسا ہے کِسی روز نظارا کیجے۔۔۔!

شاعر افضل عاجز