Monday, June 10, 2019

اپنی تباہِیوں کا کِسی سے گِلا نہیں
یہ واردات صِرف مِرا واقعہ نہیں

اِس شہر کے ہُجُوم میں گُم ہوگئے ہیں لوگ
آواز دے رہی ہُوں کوئ بولتا نہیں

ہم نے فِراقِ یار میں گھڑِیاں گُزار دِیں
اِس مَرحلے کے بعد کوئ مَرحلہ نہیں

یہ آپ کا ہے حُکم تو اچھّا یُوں ہی سہی
ترکِ تَعَلُّقات مِرا مُدّعا نہیں

یُوں کھو گئی ہُوں رَنج و اَلَم کے غُبار میں
منزِل تو سامنے ہے مگر راستہ نہیں۔۔۔!

برکھا رانی

No comments:

Post a Comment