Monday, June 10, 2019

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

مخدوم محی الدین۔۔۔۔!!
اپنی تباہِیوں کا کِسی سے گِلا نہیں
یہ واردات صِرف مِرا واقعہ نہیں

اِس شہر کے ہُجُوم میں گُم ہوگئے ہیں لوگ
آواز دے رہی ہُوں کوئ بولتا نہیں

ہم نے فِراقِ یار میں گھڑِیاں گُزار دِیں
اِس مَرحلے کے بعد کوئ مَرحلہ نہیں

یہ آپ کا ہے حُکم تو اچھّا یُوں ہی سہی
ترکِ تَعَلُّقات مِرا مُدّعا نہیں

یُوں کھو گئی ہُوں رَنج و اَلَم کے غُبار میں
منزِل تو سامنے ہے مگر راستہ نہیں۔۔۔!

برکھا رانی

Saturday, June 8, 2019


پھر روگوں میں چھوڑ گئے ہو
کن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو

ہنستے ہنستے جانے والے
کیوں سوگوں میں چھوڑ گئے ہو؟

ہم کو دردوں اور دُکھوں کے
سنجوگوں میں چھوڑ گئے ہو

یہ زخموں پر ہنس دیتے ہیں
اِن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو ؟

دیکھو مجھ کو روند رہے ہیں
جن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو


زین شکیل ۔۔!!

Wednesday, February 20, 2019


آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ

لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی

Friday, January 25, 2019

غزل "مرزا اسداللہ غالب"

حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔۔
۔مقدور ہو تو ساتھ  رکھوں نوحہ گر کو میں ۔۔

چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
!ھر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاوں کدھر کو میں

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں

چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رو کے ساتھ
!پیچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں 

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
!کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں

غالب خدا کرے کیہ سوار سمند ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر  کو میں۔
💚💚💚


جنہوں کے عشق صاسق ہوں۔وہ کب فریاد کرتے ہیں۔۔
لبوں پہ مہر خاموشی۔دلوں پہ راج کرتے ہیں۔۔
💚💙💚