Sunday, June 16, 2019

یہ مشغلہ ہے کسی کا ،نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹاۓ، نہ فیصلہ چاہے

میری بساط ہے کیا میں ہوں برگِ آوارہ
اُڑا کے لے چلے مجھ کو ،جدھر ہوا چاہے

جو اصل چہرہ دکھاتا ہے ترجماں بن کر
اُس آئینے کی طرف کون دیکھنا چاہے

ہزاروں ڈوبنے والے بچا لیے لیکن
اُسے میں کیسے بچاؤں جو ڈوبنا چاہے

نہ جانے خونِ تمنا کیا ہے کس کس نے
مگر وہ شخص فقط مجھ سے خوں بہا چاہے

بھلانا چاہوں جو اس کو بھلا نہیں سکتا
یہ اور بات ہے کہ وہ مجھ کو بھولنا چاہے 

نا جانے کیا میرے صیّاد کا ارادہ ہے 
جلا چکا ہے نشیمن اب اور کیا  چاہے 

زاہد آفاق۔۔۔!!

Friday, June 14, 2019

چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اُتارا کیجے
مشورہ ہے یہ میری جان! گوارا کیجے

ہم تُمہیں ایک نَظَر بھی نہیں اچھّے لگتے
ارے کیجئے جان یہی بات دوبارا کیجے

روشنی دِن کی اندھیروں میں سِمَٹ جاتی ہے
گھر کے آنگن میں نہ یُوں بال سنوارا کیجے

ہم تو یہ جان ہتھیلی پہ لئے پِھرتے ہیں
بَس کِسی دِن ہمیں ہلکا سا اِشارا کیجے

آپ تو مَحل نشِیں نرم مُلائم سے ہیں
جھونپڑی ہے یہ غریبوں کی گُزارا کیجے 

ہم تو راہوں میں لیے پھرتے ہیں کاسہِ دِل
حال کیسا ہے کِسی روز نظارا کیجے۔۔۔!

شاعر افضل عاجز

Monday, June 10, 2019

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

مخدوم محی الدین۔۔۔۔!!
اپنی تباہِیوں کا کِسی سے گِلا نہیں
یہ واردات صِرف مِرا واقعہ نہیں

اِس شہر کے ہُجُوم میں گُم ہوگئے ہیں لوگ
آواز دے رہی ہُوں کوئ بولتا نہیں

ہم نے فِراقِ یار میں گھڑِیاں گُزار دِیں
اِس مَرحلے کے بعد کوئ مَرحلہ نہیں

یہ آپ کا ہے حُکم تو اچھّا یُوں ہی سہی
ترکِ تَعَلُّقات مِرا مُدّعا نہیں

یُوں کھو گئی ہُوں رَنج و اَلَم کے غُبار میں
منزِل تو سامنے ہے مگر راستہ نہیں۔۔۔!

برکھا رانی

Saturday, June 8, 2019


پھر روگوں میں چھوڑ گئے ہو
کن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو

ہنستے ہنستے جانے والے
کیوں سوگوں میں چھوڑ گئے ہو؟

ہم کو دردوں اور دُکھوں کے
سنجوگوں میں چھوڑ گئے ہو

یہ زخموں پر ہنس دیتے ہیں
اِن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو ؟

دیکھو مجھ کو روند رہے ہیں
جن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو


زین شکیل ۔۔!!

Wednesday, February 20, 2019


آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ

لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی