یہ مشغلہ ہے کسی کا ،نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹاۓ، نہ فیصلہ چاہے
میری بساط ہے کیا میں ہوں برگِ آوارہ
اُڑا کے لے چلے مجھ کو ،جدھر ہوا چاہے
جو اصل چہرہ دکھاتا ہے ترجماں بن کر
اُس آئینے کی طرف کون دیکھنا چاہے
ہزاروں ڈوبنے والے بچا لیے لیکن
اُسے میں کیسے بچاؤں جو ڈوبنا چاہے
نہ جانے خونِ تمنا کیا ہے کس کس نے
مگر وہ شخص فقط مجھ سے خوں بہا چاہے
بھلانا چاہوں جو اس کو بھلا نہیں سکتا
یہ اور بات ہے کہ وہ مجھ کو بھولنا چاہے
نا جانے کیا میرے صیّاد کا ارادہ ہے
جلا چکا ہے نشیمن اب اور کیا چاہے
زاہد آفاق۔۔۔!!
