Friday, December 13, 2019

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
کلیم عاجز
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو 
روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو 

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں 
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو 

دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تم 
کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو 

مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ 
پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو 

ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا 
تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو 

زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے 
زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو 

وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہے 
تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو

No comments:

Post a Comment