کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جائے
یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جائے
یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
نامے کے ساتھ آگیا پیغامِ مرگ
رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا غالب
...
مرزا غالب
No comments:
Post a Comment