Wednesday, December 18, 2019

کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا 
کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا 

ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جائے
یار کا دروازہ پاویں گر کھلا 

ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ 
دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا 

واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ 
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا 

مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ 
رہروی میں پردۂ رہبر کھلا  

ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جائے
یار کا دروازہ پاویں گر کھلا 

ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ 
دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا 

واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ 
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا 

مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ 
رہروی میں پردۂ رہبر کھلا 

نامے کے ساتھ آگیا پیغامِ مرگ 
رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا 

دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی 
ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا غالب
...

مرزا غالب 

No comments:

Post a Comment