Saturday, December 21, 2019

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی گئی
چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی

دشنام کا جواب نہ سوجھا بجز سلام
ظاہر مرے کلام کی اوقات ہو گئی

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

یا ضربت خلیل سے بت خانہ چیخ اٹھا
یا پتھروں کو معرفت ذات ہو گئی

یاران بے بساط کہ ہر بازئ حیات
کھیلے بغیر ہار گئے مات ہو گئی

بے رزم دن گزار لیا رتجگا مناؤ
اے اہل بزم جاگ اٹھو رات ہو گئی

نکلے جو میکدے سے تو مسجد تھا ہر مقام
ہر گام پر تلافئ مافات ہو گئی

حد عمل میں تھی تو عمل تھی یہی شراب
رد عمل بنی تو مکافات ہو گئی

اب شکر ناقبول ہے شکوہ فضول ہے
جیسے بھی ہو گئی بسر اوقات ہو گئی

وہ خوش نصیب تم سے ملاقات کیوں کرے
دربان ہی سے جس کی مدارات ہو گئی

ہر ایک رہنما سے بچھڑنا پڑا مجھے
ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

یاروں کی برہمی پہ ہنسی آ گئی حفیظؔ
یہ مجھ سے ایک اور بری بات ہو گئی

No comments:

Post a Comment